18 مارچ 2010 - 20:30

انھوں نے کہا کہ عزاداری شیعیان پاکستان کے فطری اور مسلمہ حقوق میں سے ہے اور اس کے لئے پرامن ماحول کی فراہمی حکومت کے فرائض منصبی میں سے ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل البیت اسمبلی کی سپریم کونسل کے رکن علامہ ساجد علی نقوی نے ہفتے کے روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک سوال پر کہا کہ جلوس کا روٹ تبدیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، اور اگر سیکورٹی فراہم کرنا حکومت کے بس میں نہیں ہے تو وہ ہمیں بتائے، ہم مل کرسیکورٹی فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں اور گارنٹی دیتے ہیں کہ جلوس میں کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی۔

علامہ ساجد علی نقوی سمیت شیعہ علماء کونسل کے راہنماؤں نے سانحہ یوم عاشور کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لے کر واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے، ورنہ بدامنی مزید پھیلے گی۔

انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ہم ڈیڈلائن دینے کے حق میں نہیں اور حکومت سے یہی توقع کرتے ہیں کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی تاہم حکومت اگر اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی تو ہم فیصلہ تبدیل کرکے احتجاج کی راہ اختیار کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ عزاداری شیعیان پاکستان کے فطری اور مسلمہ حقوق میں سے ہے اور اس کے لئے پرامن ماحول کی فراہمی حکومت کے فرائض منصبی میں سے ہے۔

ساجد علی نقوی نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے اور آئین اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ عزاداری شیعیان پاکستان کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے اور حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ عزاداری کی مجالس اور جلوسوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

علامہ نقوی نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ دہشت گرد حملے اور بم دھماکے کے بعد جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں گرفتار بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو فوری طور پر رہا کردے۔

انھوں نے عاشورائے خونین کے روز شہید ہونے والے عزاداران حسینی (ع) کے خاندانوں کو تعزیت پیش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ داغدار خاندانوں کو فوی طور مالی امداد فراہم کرے۔

---

مختصر تبصره ـ مأخوذ از ریڈیو تہران

سانحہ عاشورہ کے تعلق سے علامہ سید ساجد علی نقوی اور دیگر شیعہ عمائدین کے بیانات اس بات کے غمازہیں کہ بعض عناصر اس واقعے کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔

جلوس عزا پر پر پابندی یا روٹ میں تبدیلی ان ہی مذموم مقاصد کا حصہ ہے۔

کراچی میں یوم عاشور پر ہونے والے بم دہماکے کے بعد جلوس پر پابندی اور یا اس کے روٹ میں تبدیلی کی باتیں ان لوگوں کی طرف سے آرہی ہیں ہیں جو دراصل حقائق کو سمجھے بغیر فیصلہ کرنے پر مُصِرّ ہیں ۔

اگر مسلہ سیکورٹی کا ہے تو پھر ایک مبصر کے بقول نہ صرف جلوس عزا و عید میلادالنبی  بلکہ مساجد و امام بارگاہوں  سمیت تھانے کچہریوں  حساس اداروں کے مراکز اور حتی جی ایچ کیو پر بھی تالے پڑ جائیں گے۔ اس لئے کہ دہشت گردوں اور خودکش بمباروں نے اپنے حملوں میں کسی کو بھی تو نہیں بخشا ۔

اسکول یونیورسٹی بازار اور مساجد ہوٹل اور ریستوران کوئی جگہ بھی تو محفوظ نہیں ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ کوئی منطقی بات نہیں ہے اور کوئی بھی معقول آدمی اس کی تائید نہیں کرےگا اور علامہ سید ساجد علی نقوی کے بیان کو اسی زاوئے سے دیکھنے اورسمجھنے کی ضرورت ہے۔

قبل ازیں علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ مرزا یوسف حسین اور علامہ عباس کمیلی جیسے دیگر شیعہ رہنما بھی جلوس عزا پر پابندی یا اس کے روٹ میں تبدیلی کی بات مسترد کرچکے ہیں ۔